طرۂ دستار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مقیش کے تاروں کا گچھا جو پگڑی کے آخر میں لگاتے ہیں۔"  پر تو شہہ سے عجب شان ہے شہزادوں کی چاند سورج کی کرن طرہ دستار ہے آج      ( ١٩٢٨ء، سرتاج سخن، ٤١ ) ٢ - [ مجازا ]  شاہانہ وضع قطع، شاہانہ انداز۔  عارف کا ٹھکانا نہیں وہ خطہ کہ جس میں پیدا کلہ فقر سے ہو طرہ دستار      ( ١٩٣٥ء، بال جبریل، ٢١٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طرہ' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر فارسی زبان کا اسم 'دستار' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مقیش کے تاروں کا گچھا جو پگڑی کے آخر میں لگاتے ہیں۔"  پر تو شہہ سے عجب شان ہے شہزادوں کی چاند سورج کی کرن طرہ دستار ہے آج      ( ١٩٢٨ء، سرتاج سخن، ٤١ )

جنس: مذکر